4 فروری 2017 - 20:54
یوم یکجہتیء کشمیرکا پس ِ منظر وپیش منظر

کشمیری اپنی آزادی اور حق خود ارادیت کے لیے جو کوششیں کر رہے ہیں وہ بر صغیر کی تقسیم کے اصولوں کے مطابق بھی ہے اور سلامتی کونسل کی قرادادوں کے بھی عین مطابق ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔

تحریر: سید تصور حسین نقوی ایڈووکیٹ
پاکستان میں پانچ فروری کو کشمیریوں سے یکجہتی کا دن قومی سطح پر ١٩٩٠ ء سے منایا جارہا ہے۔ جماعت ِ اسلامی پاکستان کے امیر قاضی حسین احمد مرحوم  نے ١٩٩٠ء میں پانچ فروری کو حریت پسند کشمیریوں اور انکی آزادی و حق خود ارادیت کی تحریک سے اظہار یکجہتی کا دن پاکستان میں منانے کا اعلان کیا ۔ اس وقت کے وزیر اعلیٰ پنجاب میاں محمد نواز شریف  نے کشمیریوں سے یکجہتی کا دن منانے کی اپیل کی سرکاری سطح پر حمایت کی۔ اس کے بعد وفاقی حکومت نے بھی یہ دن کشمیریوں سے یکجہتی کے طور پرقومی سطح پر منانے کا فیصلہ کیا اور وہ  سلسلہ آج تک جاری ہے۔ آج ٥ فروری کو یوم ِیکجہتیء کشمیر مناتے وقت ہم میں وہ عظیم شخصیت تو موجود نہیں جنہوں نے سب سے پہلے اس دن کویکجہتی ء کشمیر کے طور پر منانے کا  تصور پیش کیا تھا لیکن میاں محمد نواز شریف کی صورت میںوہ شخصیت موجود ہے جنہوں نے سب سے پہلے اس کال پر لبیک کہتے ہوئے کشمیریوں کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور اپنے قول و فعل سے ہر موقع پر ثابت کیا کہ وہ کشمیر یوں کے بہترین وکیل ،ہمدرداور پشت بان ہیں۔آزاد ومقبوضہ کشمیر، پاکستان اور بیرون دنیامیں بسنے والے پاکستانی و کشمیر ی  ہر سال یومِ یکجہتی ء کشمیر اس عزم کے طور پر مناتے ہیں کہ آزادی کے حصول تک یہ سلسلہ جاری رہیگا ۔ پاکستانی شہری یہ دن اس عہد کی تجدید کے ساتھ مناتے ہیں کہ پاکستان کشمیریوں کے ہر فیصلے کا احترام کرتا ہے اور  انہیں آزادی کا حق ملنے تک  سیاسی، سفارتی اور اخلاقی سطح پر  انکی حمایت جاری رکھی جائے گی ۔پاکستانی قوم پانچ  فروری کو مقبوضہ کشمیر میںظلم و ستم  کے سائے میں بسنے والے مظلوم کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرتی ہے اور کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کرکے دنیا کویہ پیغام دیا جاتا ہے کہ پوری پاکستانی قوم کشمیریوں کی پشت پر کھڑی ہے اور پاکستان کسی صورت بھی مظلوم کشمیریوں کو بھارت کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑ سکتا۔اس دن کے منانے کا مقصد جہاں تحریک آزادی ء کشمیر کو پورے پاکستان کی سطح پر اجاگر کرنا ہے وہاں اس کا بڑا مقصد یہ بھی ہے کہ  پاکستانی عوام میں شعور ، بیداری اور یہ احساس اْجاگر کیا جائے کہ تحریک آزادیء کشمیر خود پاکستان کی بقاء ، سلامتی اور استحکام کی تحریک ہے اور یہ اپنی نوعیت ، اہمیت اور افادیت کے اعتبار سے کشمیر کی آزادی کے ساتھ ساتھ  پاکستان کی بقاء ، سلامتی، استحکام ، سا  لمیت اورتکمیل کی جنگ بھی ہے ۔یومِ یکجہتی کشمیر کے موقع پر ہم تحریک آزادی کشمیر اور کشمیریوںکے ساتھ یکجہتی کے تقاضوں کا ذکر کرتے ہیں تاکہ قوم بشمول حکومت ان تقاضوں کا صحیح ادراک بھی کر سکے اور ان پر عملدرآمد کو یقینی بھی بنائے۔ تحریک آزادی ء کشمیر کے ساتھ اظہار یکجہتی کے ان تقاضوں کو صحیح طو رپرسمجھنے کے لیے یہ بات جاننا ضروری ہے کہ ا سوقت مقبوضہ کشمیر میں آزادی اور حق خود ارادیت کی جو تحریک جاری ہے  وہ ریاست جموں و کشمیر کی آزادی اور حق خود ارادیت کی تحریک ہونے کے ساتھ ساتھ پاکستان کی تکمیل ، بقا، سلامتی ، استحکام، سا  لمیت کی تحریک بھی ہے اورہمارے مقبوضہ کشمیر کے بھائی آزادی کی اس تحریک کے دوران ایک لاکھ سے زیادہ  شہدا کے مقدس خون کا نذرانہ بھی پیش کر چکے ہیں جن میں مرد، عورتیں، بچے ، جوان اور بوڑھے سبھی شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اس عرصے کے دوران لاکھوں کی تعداد میں کشمیری مسلمان مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے زخمی اور اپاہج اور اپنے گھروں سے بے گھر ہو چکے ہیں۔ چنانچہ آج مقبوضہ کشمیر میں کوئی گھر ایسا نہیں جس کا کوئی نہ کوئی فرد شہید یا زخمی نہ ہوا ہو یا جس کی کسی ماں ، بہن یا بیٹی کی عصمت نہ لٹی ہو یا جس کے کسی عزیز نے وہاں سے ہجرت نہ کی ہو۔ اسی طرح آج مقبوضہ کشمیر میںبستیوں کی بستیاں ویرانوں میں تبدیل ہو چکی ہیں۔مقبوضہ کشمیر کا کوئی بھی شہر یا گاؤں ایسا نہیں کہ جہاں پر شہدا کے مزار نہ ہوں۔یوں جنت ِ ارضی کہلانے والا کشمیربھارت کی سرکاری دہشت گردی کی وجہ سے موت کی وادی  اور شہدا کے قبرستان میں تبدیل ہو چکا ہے اور کشمیری عوام نے یہ ساری قربانیاں ا ور شہادتیںاپنے حق خود ارادیت اور  پاکستان کی تکمیل ، بقا، سلامتی اور سا  لمیت کے لیے دی ہیں۔  ان عظیم ،لازوال اور بے مثل و بے مثال قربانیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے اب اگر مسئلہ کشمیر کے کسی ایسے حل کی بات کی جاتی ہے جو کشمیریوں کے حق خود ارادیت  اور آزادی  کے مطالبے سے مطابقت نہیںرکھتی تو کشمیریوں کو ایسی کوئی بات قابل ِ قبول نہیں۔مقبوضہ کشمیر کی بھارت سے آزادی اور وہاں کے مسلمانوں کی آزادی وحق خود ارادیت کی جدوجہد وہاں اسلام،  اسلامی تہذیب ، ثقافت، روایات اور مسلمانوں کی بقاء کے لیے بھی ضروری ہے۔  مقبوضہ کشمیر پر بھارت کا جارہانہ تسلط تقسیم برصغیر کے اصولوں کے ساتھ ساتھ سلامتی کونسل کی قراردوں کے مطابق بھی غیر آئینی اور غیر قانونی  ہے۔  لہذا کشمیری مسلمان اپنی تحریک ِ مزاحمت میں ہر لحاظ سے حق بجانب ہیں۔ بھارت سے آزادی  پاکستان کی زرعی و اقتصادی ترقی  کے لیے بھی ضروری ہے  اس لیے کہ اگر کشمیر پر بھارتی تسلط  قائم رہتا ہے تو وہ کشمیر سے نکلنے والے  دریا ؤں پر  ڈیم بنا کر  پاکستان کو  بنجر و صحرا بنا دیگا جسکی گزشتہ عرصے میں مثالیں موجود ہیں۔ کشمیر کی بھارت سے آزادی بیس کروڑ بھارتی مسلمانوں کے بھی بہترین مفاد میں ہے ۔ اس لیے کہ  ایک مضبوط ، توانا، مستحکم ،منظم  اور ترقی یافتہ پاکستان بھارتی مسلمانوں کے دین، ثقافت، روایات ،تہذیب اور مفادات  کے تحفظ کی بھی بہتر ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔  کشمیر کی آزادی اکھنڈ بھارت کے نام سے اس خطے میں برہمنی ریاست  کے قیام میں بھی  ایک بڑی رکاوٹ ہو گی۔کشمیری اپنی آزادی  اور حق خود ارادیت  کے لیے جو کوششیں کر رہے ہیں وہ بر صغیر کی تقسیم  کے اصولوں کے مطابق بھی ہے اور سلامتی کونسل کی قرادادوں کے  بھی عین مطابق ہے۔ کشمیر کی آزادی جہاں کشمیریوں کیلئے اہم ہے  وہیں پاکستان کے لیے بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل  ہے کیونکہ بانیء  پاکستا ن قائد اعظم محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا  اوراس بات کا ادراک ہر ذی شعور کو ہے کہ کوئی بھی انسان اپنی شہ رگ کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا ۔ایک طرف جہاں پاکستان کی زرعی و اقتصادی  ترقی آزادیء کشمیر کی مرہونِ منت ہے وہاں کشمیر میں آباد لاکھوں مسلمانوں کی زندگیاں ،دین، تہذیب و تمدن ، ثقافت ،روایات اور مفادات بھی پاکستان میں بہتر طور پر محفوظ رہ سکتے ہیں ۔ بے شک ہر پاکستانی کا دل کشمیراور کشمیر کی آزادی کے ساتھ دھڑکتا ہے ۔آج جہاں کشمیری پاکستان کی سلامتی ، بقا ء اور اسکی نظریاتی و جغرافیائی سرحدوںکی محافظت کے لئے دفاعی حصار  بنے ہوئے ہیں وہیں وہ بلاتنخواہ سپاہی کی حیثیت میں تکمیل پاکستان کی جنگ تحریک آزادی کشمیر کی صورت میں لڑ رہے ہیں دوسری طرف مملکت پاکستان کی طرف سے بھی کشمیریوں کی آزادی کی تحریک کے لیے دی جانیوالی سپورٹ مثالی ہے اور حقیقی معنوں میں یک جان دو قالب کاعملی نمونہ پیش کیا جا رہا ہے جس پرکشمیری قوم مملکت ِ پاکستان کے اصولی  و جاندارموقف پر اسکی شکر گزار ہے۔  اللہ کرے کہ کشمیر کی آزادی تک یہ رشتہ قائم و دائم رہے اور جلد کشمیر آزاد ہو کر پاکستان کا حصہ بنے تاکہ تکمیل ِ پاکستان کا ادھورا مشن مکمل ہو سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۲۴۲